گل و بلبل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پھول اور بلبل، مراد: عاشق و معشوق۔ "فارسی شاعری کے گل و بلبل اور شمع و پروانہ . دوسرے تصورات اور علائم کے شانہ بہ شانہ ملتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'گل' کے ساتھ 'و' حرف عطف لگا کر عربی اسم 'بلبل' لگانے سے مرکب عطفی 'گل و بلبل' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٦ء کو "نگار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھول اور بلبل، مراد: عاشق و معشوق۔ "فارسی شاعری کے گل و بلبل اور شمع و پروانہ . دوسرے تصورات اور علائم کے شانہ بہ شانہ ملتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، ستمبر، ١٧ )

جنس: مذکر